اڑھائی دن کا جھونپڑا
دیگر نام: Adhai Din Ka Jhonpra
مسجد مبكر من العمارة الهندية الإسلامية في أجمير براجستان، اكتمل بناؤه عام 1199م ويُعد من أقدم مساجد شمال شبه القارة الهندية
بنیادی معلومات
- سنِ تعمیر
- 1199
🧭 اس مسجد میں کیا سہولتیں ہیں؟
اگر آپ گئے ہیں تو نشان لگائیں؛ تصدیق شدہ معلومات سب کو دکھائی جاتی ہیں اور فلٹر میں استعمال ہوتی ہیں۔
جائزہ
یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔
یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔
أدهاي دين كا جهونبرا مسجد تاريخي في مدينة أجمير بولاية راجستان الهندية. يُعد من أقدم المساجد في شمال شبه القارة الهندية، وهو أقدم نصب باقٍ في أجمير. وهو مثال مبكر على العمارة الهندية الإسلامية، وقد احتفظ بكثير من سماته الهندية الأصلية، ولا سيما في أعمدته المزخرفة. ويُترجم اسمه حرفياً بـ«سقيفة اليومين والنصف». ويحمل الموقع صفة نصب ذي أهمية وطنية، ويزوره اليوم أشخاص من مختلف الأديان.
تاریخ
یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔
یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔
تذكر المصادر أن قطب الدين أيبك أمر ببناء المسجد عام 1192م، وينسب تصميمه إلى أبي بكر الهراتي. اكتمل البناء عام 1199م، ثم عززه شمس الدين إلتتمش من سلطنة دهلي عام 1213م. وقام ببناء معظمه بنّاؤون هندوس تحت إشراف مديرين أفغان.
استُخدم المبنى مسجداً حتى عام 1947م. وبعد استقلال الهند سُلّم إلى فرع جايبور التابع لهيئة المسح الأثري الهندي. ويزوره الناس اليوم بوصفه مثالاً على امتزاج المؤثرات المعمارية الهندية والإسلامية والجاينية.
ویکیپیڈیا سے
اڑھائی دن کا جھونپڑا بھارتی ریاست راجستان کے اجمیر شہر میں ایک بہت بڑی اور وسیع مسجد ہے۔ یہ ہندوستان کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے اور اجمیر میں باقی رہ جانے والی قدیم ترین یادگار ہے۔
اڑھائی دن کا جھونپڑا ہندوستانی ریاست راجستان کے اجمیر شہر میں ایک بہت بڑی اور تاریخی مسجد ہے۔ یہ ہندوستان کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے اور اجمیر میں باقی رہ جانے والی قدیم ترین یادگار ہے۔
1192ء میں محمد غوری کے حکم سے قطب الدین ایبک نے اس مسجد کی تعمیر شروع کروائی جو 1199ء میں مکمل ہوئی اور 1213ء میں دہلی کے سلطان التمش نے اس میں مزید تزئین کاری کی۔
یہ شروعاتی دور کے ہند اسلامی فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے اسے ابو بکر ہرات نے تزئین کیا تھا۔
اس مسجد کو 1947ء تک مسجد کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد اس مسجد کو اے ایس آئی (ہندوستان کے آثار قدیمہ کے سروے) جے پور دائرہ میں دے دیا گیا تھا اور آج آثار قدیمہ کے طور پر تمام مذاہب کے لوگ اس کا دورہ کرتے ہیں۔
ماخذ: ویکیپیڈیا، مضمون «اڑھائی دن کا جھونپڑا»؛ CC BY-SA 4.0 لائسنس کے تحت بغیر تبدیلی کے نقل کیا گیا۔ مزید ویکیپیڈیا پر پڑھیں ↗ · CC BY-SA 4.0
حوالہ جات
Wikipedia (ar): https://ar.wikipedia.org/wiki/%D8%A3%D8%AF%D9%87%D8%A7%D9%8A_%D8%AF%D9%8A%D9%86_%D9%83%D8%A7_%D8%AC%D9%87%D9%88%D9%86%D8%A8%D8%B1%D8%A7
Wikipedia (de): https://de.wikipedia.org/wiki/Adhai-din-ka-Jhonpra-Moschee
Wikipedia (en): https://en.wikipedia.org/wiki/Adhai_Din_Ka_Jhonpra
Wikipedia (fa): https://fa.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D8%A2%D8%AF%D9%87%D8%A7%DB%8C_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%BE%D8%B1%D8%A7
Wikipedia (ur): https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%AF%D9%86_%DA%A9%D8%A7_%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%86%D9%BE%DA%91%D8%A7