مواد پر جائیں
مسجد اٹلس أطلس المساجد

تصویر: Hasso Hohmann · CC BY 4.0 · Wikimedia Commons ↗

تاریخی

مسجد و مدرسہ مظفر

مسجد يقع في تعز، اليمن

راستہ

بنیادی معلومات

سنِ تعمیر
1294
🧭 اس مسجد میں کیا سہولتیں ہیں؟

اگر آپ گئے ہیں تو نشان لگائیں؛ تصدیق شدہ معلومات سب کو دکھائی جاتی ہیں اور فلٹر میں استعمال ہوتی ہیں۔

نشان لگانے کے لیے سائن ان کریں

جائزہ

یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔

یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔

جامع المظفر جامع ومدرسة تاريخيان يقعان في الجزء القديم من مدينة تعز في اليمن. ويُنسب إلى مؤسسه السلطان الملك المظفر يوسف بن عمر، ثاني ملوك الدولة الرسولية. قام الجامع منذ إنشائه بدور الجامع الكبير في المدينة، وضمّ مدرسة تخرّج فيها عدد من علماء الدين. ويُعدّ من كبرى مساجد المدينة القديمة، ويؤمّه كثير من الأهالي لأداء صلاة الجمعة. كما يرتبط به حمّام عام، تذكر الروايات أن زوّارًا من الأرياف كانوا يقصدونه للاستشفاء أو ضمن عادة تسبق الزواج.

تاریخ

یہ مواد ابھی آپ کی زبان میں دستیاب نہیں۔

یہ متن مستند معلومات سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور ابھی کسی مدیر نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ غلطی نظر آئے تو براہ کرم اطلاع دیں۔

أنشأ الجامع والمدرسة السلطان الرسولي الملك المظفر يوسف بن عمر. وتذكر بياناتنا أن سنة البناء هي 1294م، في حين يرى بعض الباحثين أن التأسيس كان في النصف الأول من حكمه، نحو سنة 648هـ (1250م).

وجرت على المنشأة إضافات وتعديلات في العصور اللاحقة. وقد حظيت منذ قيامها باهتمام الحكام لأنها كانت الجامع الكبير في المدينة. وتُعدّ من أقدم المدارس المعلّقة، وأول نموذج اقتدت به كثير من المدارس الرسولية بعد ذلك.

ویکیپیڈیا سے

مسجد و مدرسہ مظفر، تاریخی شہر تعز کی مشہور مساجد میں سے ایک ہے۔ اسے سلطان ملک المظفر یوسف بن عمر (بنو رسول خاندان سے) نے تعمیر کروایا۔ بعض محققین کے مطابق اس کی بنیاد اس کے دورِ حکومت کے ابتدائی حصے میں رکھی گئی، یعنی 648ھ / 1250ء کے آس پاس۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس مسجد و مدرسے میں مختلف اضافے اور ترمیمات کی گئیں۔ اپنی تعمیر کے بعد سے یہ مذہبی عمارت مختلف ادوار میں حکمرانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی، کیونکہ یہ شہر کی جامع مسجد کا کردار ادا کرتی تھی۔

یہ مدرسہ قدیم ترین معلق (دو منزلہ یا بالائی حصے میں قائم) مدارس میں سے ایک ہے اور مدارسِ رسولیہ کے لیے ایک نمونہ و ماڈل ثابت ہوا جس کی پیروی بعد میں کئی تعزی مدارس نے کی۔

اس جامع کا نام اس کے بانی، ملک مظفر یوسف بن عمر بن علی بن رسول (دولتِ رسولیہ کے دوسرے بادشاہ) کے نام پر رکھا گیا۔

ماخذ: ویکیپیڈیا، مضمون «مسجد و مدرسہ مظفر»؛ CC BY-SA 4.0 لائسنس کے تحت بغیر تبدیلی کے نقل کیا گیا۔ مزید ویکیپیڈیا پر پڑھیں ↗ · CC BY-SA 4.0

حوالہ جات
آخری تازہ کاری: 29 اکتوبر 2026 15 مشاہدات

فہرست میں شامل کریں

تصاویر شامل کریں

تصاویر مدیر کی منظوری کے بعد شامل ہوں گی۔

درستی تجویز کریں

مسجد و مدرسہ مظفر